Aag Ka Darya PDF by Quratulain Haider. You can download Aag ka Darya novel in PDF format, complete from this page or you can also read online.

A classic historical Urdu novel by Quratulain Haider. Undoubtedly one of the most liked and admired literary works of the Urdu language. First published in 1959 in Urdu language while the author Quratulain herself translated it into English in 1998.

Aag Ka Darya Urdu Novel PDF Free Download | Read Online
Aag ka Darya Novel PDF

Aag Ka Darya (River of Fire) narrates the disturbing partition of the subcontinent into 2 different states. The novel covers the period of 2 thousand years. It starts from the ancient time of the 4th century BC to the period of independence in Pakistan and India. We see various characters and the very old cultural heritage.

You might also want to read the following:

Shahab Nama by Qudratullah Shahab
Zavia Urdu book by Ashfaq Ahmed

Read a passage from this book in Urdu language

ایک لڑکی دو خوبصورت پنکھیاں نذر کرنے کے لیے آئی تھی۔ گوتم نے لڑکی کے ہاتھ سے پنکھا لے لیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ اس کے پروں پر انگلیاں پھیریں۔ لڑکی بڑے ادب سے آشیرباد کی منتظر کچھ فاصلے پر کھڑی رہی۔ یہ پنکھے کہاں کہاں کن کن دوردراز کے شہروں اور ملکوں کو بھیجے جائیں گے۔ کیسے کیسے لوگ ان کو استعمال کریں گے۔ وہ سوچ رہا تھا۔ یہ پنکھیا جو میں چھو رہا ہوں یہی ایودھیا کے بازار میں جا کر بکے گی اور شاید وہی لڑکی اسے خرید لے گی۔

پھر اس نے دونوں پنکھیاں واپس کر دیں۔ ہمیں عیش و آرام کا حکم نہیں۔ ہمیں تمہارے یہ خوبصورت پنکھے نہیں چاہیئے۔ مور کے پروں کو ہم بن میں دیلھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ اس نے جلدی جلدی کہا۔ لڑکی نے پنکھیاں اٹھا لیں اور پرنام کے لیے جھکی اور شنکر چونکہ بھکشو کا نارنجی لباس پہنے ہوئے تھا اس نے آگے بڑھ کر شنکر کے پاوں چھو لیے۔

پھر اس نے دونوں پنکھیاں واپس کر دیں۔ ہمیں عیش و آرام کا حکم نہیں۔ ہمیں تمہارے یہ خوبصورت پنکھے نہیں چاہیئے۔ مور کے پروں کو ہم بن میں دیلھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ اس نے جلدی جلدی کہا۔ لڑکی نے پنکھیاں اٹھا لیں اور پرنام کے لیے جھکی اور شنکر چونکہ بھکشو کا نارنجی لباس پہنے ہوئے تھا اس نے آگے بڑھ کر شنکر کے پاوں چھو لیے۔

تمہارا نام سجاتا تو نہیں۔ گوتم نے ہنس کر اس سے پوچھا اور شنکر پر نظر ڈالی وہ اب بھی آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ نہیں۔ میرا نام نند بالا ہے۔ سجاتا میری بڑی بہن ہے لڑکی نے سادگی سے جواب دیا اور پھر کنوئیں کے من پر سے اتر کر گاوں کی طرف لوٹ گئی۔

You can also download from our website:

Raja Gidh by Bano Qudsia
Udas Naslain novel by Abdullah Hussain

بھائی گوتم ہر زمانے میں ہر قدم پر تمہیں کوئی نند بالا ملے گی۔ کوئی سجاتا اور وہ تمہارے پاس آ کر تمہاری پرستش کرنا چاہے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھولو۔ ہری شنکر نے کہا۔

صبح سویرے پھر وہ اپنے سفر پر چل نکلے اور دو دن تک چلتے رہے۔ اب شراوتی زیادہ دور نہیں تھا۔ شیشم کے جنگلوں کے اختتام پر آبادی شروع ہو گئی تھی۔ سڑک پر دو رویہ درخت لگے تھے۔ جن کے پرے امرا کے مکانات تھے۔ ان مکانوں کے باغوں میں نقلی پہاڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ اور امرود اور انار کے درختوں کے جھنڈ تھے جن پر سبز پروں والے طوطے شور مچا رہے تھے۔ پالتو مور مرمریں تالابوں کے کنارے کھڑے پانی میں اپنا عکس دیکھتے تھے۔ جامن کے درختوں میں جھولے پڑے تھے۔ مکانوں کی دیواروں کی سفیدی ہلکی ہلکی دھوپ میں جگمگا رہی تھی۔

Aag Ka Darya PDF novel links

Aag Ka Darya novel PDF complete | Download | Read online

Leave a Reply